Press ESC to close

QuoteBookQuoteBook Urdu Quotes, Stories, Poetry and Golden Words

Qabristan K Saaye – Urdu Horror Story

Urdu Horror Story PDF

قبرستا ن کے سائے

رات گہری ہوتی جارہی تھی۔ بادل آسمان پر چھائے ہوئے تھے، چاند کی ہلکی سی روشنی بھی غائب تھی۔ ہر طرف اندھیرا تھا، صرف قبرستان میں کچھ چراغ جل رہے تھے، جو اپنی کمزور روشنی سے قبرستان کی خاموشی کو اور بھی خوفناک بنا رہے تھے۔

میں اور میرا دوست، جمیل، ایک قبرستان کے پاس سے گزر رہے تھے۔ جمیل مجھے ڈرانے کے لیے قبرستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، سنا ہے اس قبرستان میں ایک بھوت رہتا ہے، جو رات کو قبروں سے باہر نکلتا ہے اور لوگوں کو ڈراتا ہے

میں نے اس کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور قہقہہ لگاتے ہوئے کہا، “یہ تو بچوں کی باتیں ہیں،بھوت کہاں ہوتے ہیں؟”لیکن جمیل کی باتیں میرے دل میں خوف پیدا کر رہی تھیں۔ میں نے قبرستان کی طرف دیکھا، تو مجھے لگا کہ کسی قبر کے پیچھے سے کوئی چیز حرکت کر رہی ہے۔

Urdu horror Story pdf - Qabristan K Saaye

خوف سے میرا دل دھڑکنے لگا۔ میں نے جمیل سے کہا، “چلو جلدی سے یہاں سے نکلتے ہیں.” لیکن ہم تیز چلنے سے پہلے ہی ایک عجیب سی آواز ہمارے کانوں میں پڑی۔ یہ ایک گھسیٹنے کی آواز تھی، جیسے کوئی زمین پر رینگ رہا ہو۔ہم نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑا اور خوفزدہ نظروں سے قبرستان کی طرف دیکھا۔ آواز قبرستان سے ہی آرہی تھی۔

ہم نے آہستہ آہستہ قدم بڑھانا شروع کیا، تاکہ دیکھ سکیں کہ آواز کہاں سے آرہی ہے۔ جیسے ہی ہم قبرستان کے قریب پہنچے، تو ہم نے دیکھا کہ ایک کالے رنگ کا کفن پہنے ہوئے شخص ایک قبر کے پیچھے سے نکل رہا ہے۔

اس کے چہرے پر کپڑا بندھا ہوا تھا، اور اس کی آنکھیں سرخ تھیں۔ وہ ہمارے طرف بڑھ رہا تھا، اور اس کے ہاتھ میں ایک بڑا سا چاقو تھا۔ہم خوف سے چیختے ہوئے پیچھے ہٹنے لگے، لیکن وہ بھوت ہمارے تعاقب میں تھا۔ وہ تیزی سے ہمارے قریب آ رہا تھا، اور ہم اس سے پیچھا چھڑانے میں ناکام رہے۔

ہم ایک درخت کے پیچھے چھپ گئے، لیکن وہ بھوت ہمیں دیکھ چکا تھا۔ وہ درخت کے پاس آیا اور اسے زور سے ٹھوکر ماری۔ درخت ہلنے لگا، اور ہم دونوں زمین پر گر گئے۔بھوت نے چاقو ہماری طرف بڑھایا، اور ہم اپنی زندگی کے لیے خوفزدہ ہو گئے۔

لیکن اسی وقت جمیل نے اپنے بیگ سے ایک پتھر نکالا اور اسے زور سے بھوت کے سر پر مارا۔ بھوت چیخا اور زمین پر گر گیا۔ہم نے اس موقع کا فائدہ اٹھایا اور وہاں سے بھاگ نکلے۔ ہم نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، یہاں تک کہ ہم اپنے گھر نہیں پہنچ گئے۔

اس دن کے بعد ہم کبھی بھی اس قبرستان کے پاس نہیں گئے۔ ہم نے بھوت کو دوبارہ نہیں دیکھا، لیکن یہ واقعہ ہمارے ذہنوں میں ہمیشہ رہے گا۔

Leave a Reply

Table of Content